Kawary rhyny k faidy

کنوارے بندے کے تقریبا 64 سے زائد فائدے😜😎🤓

 

وہ کسی بھی شادی میں سلامی دینے کا مستحق نہیں ہوتا

 

اُس کا کوئی سُسرال نہیں ہوتا

 

اُس کے دونوں تکیے اس کی اپنی ملکیت ہوتے ہیں

اُسے کبھی تنخواہ کا حساب نہیں دینا پڑتا

 

اُسے دوستوں میں بیٹھے ہوئے کبھی فون نہیں آتا کہ آتے ہوئے چھ انڈے اور ڈبل روٹی لیتے آئیے گا

 

اُسے کبھی موٹر سائیکل پر کیرئیر نہیں لگوانا پڑتا

 

اُسے کبھی دوپٹہ رنگوانے نہیں جانا پڑتا

 

اُس کا کوئی سالا نہیں ہوتا لہذا اُس کی موٹر سائیکل میں پٹرول ہمیشہ پورا رہتا ہے..

 

اُسے کبھی روٹیاں لینے کے لیے تندور کے چکر نہیں لگانے پڑتے

 

اُسے کبھی فکر نہیں ہوتی کہ کوئی اُس کا چینل تبدیل کرکے ’’میرا سلطان‘‘ لگا دے گا..

 

اُس کے ٹی وی کا ریموٹ کبھی اِدھر اُدھر نہیں ہوتا

 

اُسے کبھی ٹی سیٹ خریدنے کی فکر نہیں ہوتی

 

اسے کبھی پردوں سے میچ کرتی ہوئی بیڈ شیٹ نہیں لینی پڑتی

 

اسے کبھی کہیں جانے سے پہلے اجازت نہیں لینی پڑتی.

 

اسے کبھی اپنے موبائل میں خواتین کے نمبرزمردانہ ناموں سے save نہیں کرنے پڑتے

 

اسے کبھی کپڑوں کی الماری میں سے اپنی شرٹ نہیں ڈھونڈنی پڑتی

اسے کبھی انارکلی بازار میں مارا مارا نہیں پھرنا پڑتا

 

اسے کبھی بیڈ روم کے دروازے کا لاک ٹھیک کروانے کی ضرورت پیش نہیں آتی

اسے کبھی ٹوتھ پیسٹ کا ڈھکن بند نہ کرنے کا طعنہ نہیں سننا پڑتا 

 

اسے کبھی دو جوتیاں نہیں خریدنی پڑتیں

اسے کبھی بیوٹی پارلر کے باہر گھنٹوں انتظار میں نہیں کھڑا ہونا پڑتا

 

اسے کبھی دیگچی کو ہینڈل نہیں لگوانے جانا پڑتا

اسے کبھی اپنے براؤزر کی ہسٹری ڈیلیٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی

 

اسے کبھی کسی کو منانا نہیں پڑتا

اسے کبھی کسی کی منتیں نہیں کرنی پڑتیں

 

اسے کبھی آٹے دال کے بھاؤ معلوم کرنے کی ضرورت نہیں پیش آتی

اسے کبھی موٹر سائیکل کے دونوں شیشے نہیں لگوانے پڑتے

 

اسے کبھی سٹاپ پر موٹر سائیکل گاڑیوں سے پرے نہیں روکنی پڑتی

اسے کبھی نہیں پتا چلتا کہ اس کا کون سا رشتہ دار کمینہ ہے

 

اسے کبھی اپنے گھر والوں کی منافقت اور برائیوں کا علم نہیں ہونے پاتا..

 

اسے کبھی اپنے گھرکے ہوتے ہوئے کرائے کا گھر ڈھونڈنے کی ضرورت پیش نہیں آتی

 

اسے کبھی بہنوں بھائیوں سے ملنے میں جھجک محسوس نہیں ہوتی..

 

اسے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں جوڑنے پڑتے

 

اسے کبھی ماں کو غلط نہیں کہنا پڑتا

اس کی کنگھی اور صابن پر کبھی لمبے لمبے بال نہیں ملتے

 

اسے کبھی بدمزہ کھانے کو اچھا نہیں کہنا پڑتا

اسے کبھی میٹھی نیند کے لیے ترسنا نہیں پڑتا

 

اسے کبھی سردیوں کی سخت بارش میں نہاری لینے نہیں نکلنا پڑتا..

 

اسے کبھی کمرے سے باہر جاکے سگریٹ نہیں پڑتا

 

اسے کبھی چھت کے پنکھے صاف نہیں کرنے پڑتے

 

اسے کبھی ’’پھول جھاڑو‘‘ خریدنے کی اذیت سے نہیں گذرنا پڑتا‘

 

اسے کبھی پیمپرزنہیں خریدنے پڑتے..

 

اسے کبھی کھلونوں کی دوکانوں کے قریب سے گذرتے ہوئے ڈر نہیں لگتا

 

اسے کبھی صبح ساڑھے سات بجے اٹھ کر کسی کو سکول چھوڑنے نہیں جانا پڑتا..

 

اسے کبھی اتوار کا دن چڑیا گھر میں گذارنے کا موقع نہیں ملتا

 

اسے کبھی باریک کنگھی نہیں خریدنی پڑتی..

 

اسے کبھی سستے آلوخریدنے کے لیے چالیس کلومیٹر دور کا سفر طے نہیں کرنا پڑتا

 

اسے کبھی الاسٹک نہیں خریدنا پڑتا

اسے کبھی سبزی والے سے بحث نہیں کرنا پڑتی

 

اسے کبھی فیڈر اور چوسنی نہیں خریدنی پڑتی

اسے کبھی سالگرہ کی تاریخ یاد نہیں رکھنی پڑتی

 

اسے کبھی پیٹی کھول کر رضائیوں کو دھوپ نہیں لگوانی پڑتی

اسے کبھی دال ماش اور کالے ماش میں فرق کرنے کی ضرورت نہیں پیش آتی

 

اسے کبھی نیل پالش ریموور نہیں خریدنا پڑتا 

اسے کبھی اپنی فیس بک کا پاس ورڈ کسی کو بتانے کی ضرورت پیش نہیں آتی

 

اسے کبھی گھر آنے سے پہلے موبائل کے سارے میسجز ڈیلیٹ کرنے کی فکر نہیں ہوتی 

 

اسے کبھی موٹر کا پٹہ بدلوانے کی فکر نہیں ہوتی‘ 

 

اسے کبھی اچھی کوالٹی کے تولیے لانے کی ٹینشن نہیں ہوتی

اسے کبھی کسی کے خراٹے نہیں سننے پڑتے‘

 

اسے کبھی نیند کی گولیاں نہیں خریدنی پڑتیں ‘

اسے کبھی سکول کی فیس ادا کرنے کا کارڈ نہیں موصول ہوتا‘

 

اسے کبھی کرکٹ میچ کے دوران یہ سننے کو نہیں ملتا کہ       ’’آفریدی اتنے گول کیسے کرلیتا ہے؟‘‘

 

کسی سینئر کنوارے کا شعر ہے کہ۔۔۔

 

میں تو کہتا ہوں کنوارے بندے کو یہ بھی بڑا فائدہ ہے کہ وہ رات کو گلی میں چارپائی ڈال کر بھی سو سکتا ہے کمرے کی کھڑکیاں ہر وقت کھلی رکھ کر تازہ ہوا کا لطف اٹھا سکتا ہے‘رات کو لائٹ بجھائے بغیر سو سکتا ہے...! 

 

    ’’ہم سے بیوی کے تقاضے نہ نباہے جاتے

        ورنہ ہم کوبھی تمنا تھی کہ بیاہے جاتے "

 

نوٹ:-   اگر کوئی کمی رہ گئی ہے تو آپ کمنٹ میں تحریر فرما دیں، کیونکہ ہر بندے کا اپنا اہنا تجربہ و تجزیہ ہوتا ہے

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author